گھاس کی ٹہنی کو مضبوتی سے پکڑو

Spread the love
گھاس کی ٹہنی کو مضبوتی سے پکڑو

 
گھاس کی ٹہنی کو مضبوتی سے پکڑو
میں اس وقت موجود ہوں۔ اور میرا وجود اس وقت یہاں ہے۔
بہت ہی بڑے فلش سیلاب کے دریا میں ، میں بہ رہا ہوں اور مجھے صرف ایک گھاس کی ٹہنی ڈوب نے سے بچا رہی ہے۔
یہ مضحکہ خیزلگتا ہے، امید جس طرح آتی ہے—نہایت باریک، سبز، گویا طبیعیات پر ہنستی ہوئی۔ میری انگلیاں اس گھاس کی ٹہنی سے لپٹی ہوئی ہیں،  اس لیے نہیں کہ مجھے یقین ہے یہ مجھے بچا سکتی ہے، بلکہ اس لیے کہ میرا جسم غرقاب ہونے کی منطق کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ میں ڈوبنا نہیں چاہتا۔
 یہ گھاس کی ٹہنی جھکتی ہے، گنگناتی ہے، دریا کی طاقت سے لرزتی ہے، پھر بھی نہیں ٹوٹتی۔ یا شاید یہ ٹوٹ جائے۔ یہ غیر یقینیت پوری کائنات میں ہے۔
دریا کا نہ کوئی چہرہ ہے، نہ کوئی ارادہ۔ یہ میری زبان سے بھی پرانا ہے، میری ذات کے تصور سے بھی پرانا۔ یہ مجھ سے نفرت نہیں کرتا؛ یہ مجھے نہیں جانتا۔ یہ بس جاری رہتا ہے۔ میں بہت دیر سے سیکھ رہا ہوں کہ یہ واقات کا تسلسل مجھ پر کوئی مہربانی نہیں ہے۔
پانی میرے کانوں کو بھر دیتا ہے۔ اس کی دھاڑ ایک آواز نہیں بلکہ ایک حالت ہے۔ دریا بغیر الفاظ کے بولتا ہے، اور پھر بھی میں اسے اتنی وضاحت سے سمجھتا ہوں جتنا میں نے کبھی گرجا گھر کے خطبات کو نہیں سمجھا۔
دریا کہتا ہے، “تم خاص نہیں ہو”
لیکن تم مجھ سے الگ بھی نہیں ہو”۔”
یہ گھاس کی ٹہنی میرے ہتھیلی کو چبھتی ہے۔ درد مجھے اسی جگہ پر جکڑ دیتا ہے۔  کہ میں ہنستا ہوں—ایک مختصر، دبی  ہوئی ہنسی—کیونکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خود کائنات کوئی لطیفہ سنارہی ہے۔ انسان، جو استعاروں میں ماہر ہے، ایک استعارے سے چپکنے پر مجبور ہے۔
جب میں بچہ تھا، مجھے بتایا گیا تھا کہ خدا  ایک نجات دہندہ ہے ۔ ایک ہاتھ جو اوپر سے نیچے آتا ہے، مضبوط اور باپ جیسا، اور آپ کو پکڑ لیتا ہے۔ بہاؤ سے محفوظ۔  رکھتا ہے۔ بچپن میں۔ ‘اچھے سے پکڑو،’ پادری نے مسکراتے ہوئے کہا، جیسے دنیا پہلے ہی پسل نہیں ہو رہی ہو۔ ‘ایمان تمہارا رسی ہے۔’
میں اب ان سباق کے درست الفاظ یاد کرنے کی کوشش کرتا ہوں، لیکن وہ اس طرح سے ہیں جیسے گیلا کاغذ پر لکھایی، پڑھنے سے پہلے ہی تحلیل ہو جاتی ہے۔ جو مجھے واضح طور پر یاد ہے وہ عطیات کی فہرست ہے جوگرجا گھر کے نوٹس بورڈ پر خاموشی سے لگا دی گئی تھی۔ لگتا تھا،خدا کے بھی انتظامی اخراجات ہوتے ہیں۔
دریا زور سے بہنے لگتا ہے، اور میرا ہاتھ مضبوطی سے گھاس کی ٹہنی کوپکڑتا ہے۔
“”کیا یہ تم ہو؟ میں چیختا ہوں—اوپر کی طرف نہیں، بلکہ نچے کی طرف ۔
 “کیا یہ تمہاری آزمائش ہے؟”
پانی جواب دیتا ہے اور میرا جسم ڈوبے ہوئے پتھر سے ٹکرا جاتا ہے۔ چھاتی کی پسلیوں کے اندر درد پھولنے لگتا ہے۔ اگر یہ ایک آزمائش ہے تو یہ بہت بری طرح سے ڈیزائن کی گئی  آزمایش ہے۔ نہ اس کا کوئی فیڈ بیک میکانزم، نہ کوئی گریڈ دینے کا طریقہ۔ بس صرف نتائج۔
میرے ذہن میں ایک آواز بلند ہوتی ہے، مانوس اور ماہرانہ۔ یہ اُس آدمی کی ہے جو سوٹ پہنے ہوئے میں نے ایک بار ٹیلی ویژن پر دیکھا تھا۔
“”ہر چیز کسی وجہ سے ہوتی ہے” وہ نرمی سے کہتا ہے۔ “خاص طور پر یہ بھی”
میں مڈ کر اس کی زبان درازی روکنا چاہا، لیکن میرے ہاتھ گھاس کی ٹہنی پکڑنےمیں مصروف ہیں۔
“کس وجہ سے؟” میں غصے سے بولا۔ “کس کے لیے؟”
وہ پھر مسکراتا ہے۔ “یہ آپ کے لیے معلوم کرنے کی بات نہیں ہے۔ لیکن ایک معمولی ماہانہ عطیہ دینے پر ہم آپ کو ان حالات میں سکون پانے میں مدد کر سکتے ہیں۔”
دریا مجھے نیچے کھینچ رہا ہے۔ گھاس کا تنا نا ممکن حد تک کھنچا ہوا ہے، کسی ان دیکھے مقام میں جڑ پکڑے ہوئے—کنارہ، زمین، یادیں، تاریخ۔
مجھے خیال آتا ہے کہ گھاس مجھے بھی نہیں جانتی۔ یہ میرے لیے اپنی قربانی نہیں دے رہی۔ یہ بس گھاس ہے، وہ دباؤ اور بڑھنے کے انداز جو لاکھوں سالوں میں سیکھے گئے ہیں، کی پیروی کر رہی ہے۔
اور پھر بھی ہم یہاں ہیں، آپس میں الجھے ہوئے۔
مجھے یاد ہے کہ میں نے ایک بار پڑھا تھا کہ ہر دریا پہاڑوں کا ڈی این اے لے کر بہتا ہے۔ یہ کہ کٹاؤ ایک قسم کی یادداشت ہے۔ اگر یہ درست ہے، تو یہ پانی قدیم کہانیاں سنا رہا ہے، میرے جسم سے گزر رہا ہے، مجھے دوبارہ ترتیب دے رہا ہے۔ میں کہانی کے باہر نہیں ہوں؛ میں رموزِ وقف ہوں۔
ایک سائنسدان کی آواز گفتگو میں شامل ہوتی ہے، صاف اور جذبات سے خالی ۔
“آپ ایک جاندار ہیں جو کسی ماحولیاتی نظام کا حصہ ہے ۔” وہ  کہتی ہیں۔ ‘‘آپ کے لیے آپ کی بقاء اہم ہے۔ دریا کے لیے اس کا بہاؤ اہم ہے۔ دونوں غلط نہیں ہیں
“تسلی بخش” میں سرگوشی کرتا ہوں۔
‘‘صحیح ہونا اکثر تسلی بخش نہیں ہوتا‘‘ وہ جواب دیتی ہیں
گھاس کی ٹہنّی تھوڑی سی سرک جاتی ہے۔ دل میں اضطراب کی ایک تیز اور برقی کیفیت دوڑ جاتی ہے۔ اسی لمحے میں سمجھتا ہوں کہ دیوتاؤں کو ثالث کے طور پر کیوں ایجاد کیا گیا۔ آپ چاہتے ہیں کہ کوئی سیلاب سے آپ کی طرف سے مذاکرات کرے۔
میں بلند آواز سے کہتا ہوں، ‘‘میں وعدہ کرتا ہوں—کس سے، مجھے معلوم نہیں—‘‘میں بہتربن آدمی بن جاو گا۔ زیادہ مہربان۔ زیادہ خیرات کرنےوالا۔ میں صحیح طرح سے ایمان قایم رکھوں گا”
دریا نہیں رکتا ہے۔ سننے والے سودے چاہتے ہیں۔
ایک نئی آواز مداخلت کرتی ہے، کچھ کچھ خفا سی۔
‘‘”اپنے خوف کو تجارتی شکل دینا بند کرو” اس نے کہا ہے۔ “یہی کام سماجی ادارے کرتے ہیں۔ وہ دہشت کو رسم و رواج میں ڈھالتے ہیں، اور یقین کو انشورنس کی طرح بیچتے ہیں”۔
میں جواب دیتا ہوں، “ تمارے لیے یہ کہنا آسان ہے۔ کیونکہ تم ڈوب نہیں رہے ہو۔ ”
 “ہم سب غرق ہو رہے ہیں” وہ آواز اصرار کرتی ہے ” بس کچھ کے  پاس اس کے بارے میں اچھی کہانیاں ہیں”

اب میری بانہیں جل رہی ہیں۔ گھاس خون سے چکنی ہے۔ ہر لمحہ لمبا ہوتا جا رہا ہے، ایک عمر بن رہا ہے۔ میں سماج کے بارے میں سوچتا ہوں—کہ ہم مشترکہ نشانوں سے اسی طرح چمٹتے ہیں جیسا میں اس چھری  جیسے ٹہنی سے چمٹا ہوں۔ جھنڈے، مذہبی کتابیں، بازار، شناختیں۔ کوئی بھی اکیلے کافی مضبوط نہیں، مگر اجتماعی طور پر قائل کرنے والی ہیں۔
شاید یہی اصل بات ہے: یہ نہیں کہ گھاس مجھے بچائے گی، بلکہ یہ مجھے یاد دلاتی ہے کہ میں ابھی بھی جڑا ہوا ہوں۔ ایسی مٹی سے جو مجھے دکھائی نہیں دیتی۔ جڑوں سے جو اس سے زیادہ پکڑتی ہیں جتنا وہ جانتی ہیں۔ دوسری زندگیوں سے جو انہی نازک لنگروں کے سہارے ہیں۔
“میں تمہیں دیکھ رہا ہوں”  میں گھاس سے سرگوشی کرتا ہوں
یہ جواب نہیں دیتا۔ اسے دینے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ اس کی خاموشی غیر موجودگی نہیں بلکہ عاجزی ہے۔
دریا حرکت کرتا ہے۔ ایک لمحے کے لیے—صرف ایک لمحے کے لیے—میں کنارے کے قریب کھینچا جاتا ہوں۔ کیچڑ میرے گھٹنوں کو کچلتا ہے۔ امید جل اٹھتی ہے، خطرناک اور روشن۔
لیکن پھر سے پانی کا بہاؤ بڑھ جاتا ہے۔
تب مجھے کسی بات کا ادراک ہوتا ہے، ایک وضاحت کے ساتھ جو فضل جیسا لگتا ہے: معنی کبھی کسی چیز کو پہنچانے کے لیے نہیں ہوتا۔ یہ کچھ ایسا ہے جو عارضی طور پر ظاہر ہوتا ہے جب مزاحمت بہاؤ سے ملتی ہے۔
اگر میں بچ گیا تو، میں یہ کہانی بخوبی نہ سنا پاؤں گا۔ زبان میرا ساتھ چھوڑ دے گی۔ لوگ اسے سبق، ایک اصول، یا ایک مصنوعہ بنا دیں گے۔ وہ سونے کے گھاس کے پتے بیچیں گے۔
اگر میں نہ بچا، تو دریا بہتا رہے گا، گھاس دوبارہ اگے گی، اور کوئی اور اسے چھو کر امید کو حقیقی وقت میں پیدا کرے گا۔